محمد رفیع سودا

جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا

01 February 2026

18سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام

جی مرا مجھ سے یہ کہتا ہے کہ ٹل جاؤں گا

جی مرا مجھ سے یہ کہتا ہے کہ ٹل جاؤں گا ہاتھ سے دل کے ترے اب میں نکل جاؤں گا لطف اے اشک کہ جوں شمع گھُلا جاتا ہوں رحم اے آہِ شرر بار! کہ جل جاؤں گا چین دینے کا نہیں زیرِ زمیں بھی نالہ سوتوں کی نیند میں کرنے کو خلل جاؤں گا قطرہء اشک ہوں پیارے، مرے نظّارے سے کیوں خفا ہوتے ہو، پل مارتے ڈھل جاؤں گا اس مصیبت سے تو مت مجھ کو نکال اب گھر سے تُو کہے آج ہی جا، میں کہوں کل جاؤں گا چھیڑ مت بادِ بہاری کہ میں جوں نکہتِ گُل پھاڑ کر کپڑے ابھی گھر سے نکل جاؤں گا میری صورت سے تو بیزار ہے ایسا ہی تو دیکھ شکل اس غم سے کوئی دن میں بدل جاؤں گا نطق کہتا ہے مرا آج یہ ہر ناطق سے آن کر ہونٹ ابھی طوطی کے مل جاؤں گا* کہتے ہیں وہ جو ہے سودا کا قصیدہ ہی خوب اُن کی خدمت میں لیے میں یہ غزل جاؤں گا

— محمد رفیع سودا

تجھ قید سے دل ہو کر آزاد بہت رویا

تجھ قید سے دل ہو کر آزاد بہت رویا لذت کو اسیری کی کر یاد بہت رویا تصویر مری تجھ بن مانیؔ نے جو کھینچی تھی انداز سمجھ اس کا بہزادؔ بہت رویا نالے نے ترے بلبل نم چشم نہ کی گل کی فریاد مری سن کر صیاد بہت رویا جوئیں پڑی بہتی ہیں جا دیکھ گلستاں میں تجھ قد سے خجل ہو کر شمشاد بہت رویا آئینہ جو پانی میں ہے غرق یہ باعث ہے تجھ سخت دلی آگے فولاد بہت رویا یاں تک مرے مشہد سے ہے تشنہ لبی پیدا اس سمت جو ہو گزرا جلاد بہت رویا سوداؔ سے یہ میں پوچھا دل میں بھی کسی کو دوں وہ کر کے بیاں اپنی روداد بہت رویا

— محمد رفیع سودا